ایٹہ،23؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش کے ایٹہ ضلع سے ایک 21؍ سالہ لڑکی کے دہلی فرار ہوجانے اور اسلام قبول کرکے ایک مسلم لڑکے سے نکاح کرلینے کے ایک ماہ بعد پولیس میں درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر یوپی پولیس نے لڑکے کے کے گھر کے 11؍ افراد کو ملزم بنا کر 6؍ کو گرفتار کرلیا ہے۔اتنہا ہی نہیں جو لوگ پولیس کی گرفت میں نہیں آسکے ان کے سروں پر 25۔25؍ ہزار روپے کے انعام کا اعلان کردیاگیاہے۔
پچیس سالہ محمد جاوید اوراس کے اہل خانہ کے خلاف یہ کیس گزشتہ ہفتے جالیسر پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے والد کی شکایت پر درج ہوا ہے۔ لڑکی 17؍ نومبر کو اپنے گھر سے فرار ہوگئی تھی۔ پولیس اب تک فرار ہونے والے جوڑے کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ جاوید اور آیوشی پچوری جس نے اپنا نام بدل کر عائشہ رکھ لیا ہے، ایٹہ سے فرار ہوکر دہلی پہنچے تھے جہاں انہوں نے نکاح کرلیا ہے۔ عائشہ عرف آیوشی کو جب یہ معلوم ہوا کہ پولیس اس کے سسرالی رشتہ داروں کو پریشان کررہی ہے تواس نے ایس ایس پی کو وکیل کے توسط سے اطلاع بھی دی کہ وہ اپنی مرضی سے مشرف بہ اسلام ہوئی ہے مگر اس پر یقین کرنے کے بجائے پولیس نے دہلی میں پریکٹس کررہے محمد ہاشم انصاری کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ محمد ہاشم انصاری کا الزام ہے کہ اس کے والد، بڑے بھائی،چچا زاد بھائی،اس کے دوست،۳؍ برادران نسبتی ، خسر اور ان کے بھائی سمیت 10؍ افراد پولیس نے حراست میں لے لیا ہےا ور2؍ دن سے کسی نامعلوم مقام پررکھا ہوا ہے ۔ دی وائر سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ہاشم نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ’’انہیں لگتا ہے کہ میں نے اس خاتون کو چھپا رکھا ہے۔ وہ مجھ سے اسے پیش کرنے کیلئے ایسے کہہ رہے ہیں جیسے میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے۔‘‘ہاشم کے مطابق منگل کی دوپہر انہیں ان کے برادر نسبتی کے فون سے میسج آیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ اگرہاشم نے لڑکی کو پیش نہ کیا تو اس کے تمام اعزہ کو جیل بھیج دیاجائےگا۔ ہاشم نے اس بات کی تصدیق کی کہ 18؍ نومبر کو ان کے چیمبر میں آیوشی نام کی لڑکی آئی تھی جس نے تبدیلی مذہب میں قانونی مدد مانگی تھی جو انہوں نے کردی تھی۔
ہاشم کے مطابق’’ 10؍ دن بعد اس نے جاوید نام کے مسلمان لڑکے سے شادی کرلی، 3؍ ہفتے تک وہ دہلی میں رہے مگر ۱۷؍ دسمبر کو لڑکے کا بھائی دہلی آیا اور بتایا کہ اس کی بیوی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، تب سے وہ دونوں لاپتہ ہیں۔